بھٹکل:۸/ستمبر (ایس او نیوز) بھٹکل پسماندہ طبقات کے پری میٹرک لڑکیوں کے ہاسٹل میں ہونہار طالبہ کوعجیب طورپر ہراساں کئے جانے کا پتہ چلاہے، جس پر والدین نے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
تعلقہ کے اترکوپا سرحد ی علاقہ میگانی کی مکین پسماندہ طبقہ کمری مراٹھی کی یہ طالبہ گذشتہ دو سالوں سے ہاسٹل میں قیام کرتے ہوئے تعلیم حاصل کررہی تھی ، طالبہ امسال دسویں میں زیر تعلیم ہے، گذشتہ سال کے سالانہ امتحانات میں طالبہ نے 93 فی صد نتیجہ درج کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔ متعلقہ طالبہ کے متعلق بتایا گیا کہ وہ تعلیمی طورپر ذہین ہونے کے علاوہ دیگر ثقافتی و کھیل مقابلوں میں بھی آگے ہے اوراسکول میں ہرکوئی اس کو پسند بھی کرتاہے۔ طالبہ نے اپنے گھروالوں کو بتایا ہے کہ گذشتہ چار پانچ مہینوں سے ہوسٹل میں کچھ ایسے واقعات ہورہے ہیں جس سے وہ خوف وہراس میں مبتلا ہوگئی ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ جب وہ نیند کی آغوش میں ہوتی ہے تو اُس پر کھڑکی سے پتھر پھینکا جاتا ہے، اس کے اسکول بیگ کوانجان لوگوں نے حال ہی میں آگ لگائی ہے اسی طرح گذشتہ روز29اگست کو اس کے کپڑوں کوکسی نے پھاڑ کر رکھا ہے۔ مسلسل ہورہی ہراسانی سے طالبہ پریشان ہوئی تو اُس نے اپنے والدین کے سامنے بات رکھی۔ جب والدین نے ہوسٹل کے عملہ کو اس تعلق سے جانکاری دی تو خود ہاسٹل کا عملہ بھی پریشان ہے کہ آخر یہ سب کون کررہاہے؟
والدین اب اپنی لڑکی کو متعلقہ اسکول اور ہاسٹل سے نکال کر دوسرے اسکول میں داخلہ دلوانے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس تعلق سے طالبہ کے والدین پائی اور دیووما نے بات کرتے ہوئے کہا کہ واقعات کی وجہ سے ہمیں ڈر محسوس ہورہاہے۔ پہلے جب دو واقعات ہوئے تو ہم نے ہاسٹل ذمہ دار کو بتایا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ معاملہ جوں کا توں جاری ہے، اگر لڑکی کو دوسرے اسکول میں داخلہ ناممکن ہوا تو ہم لڑکی کو گھر پر ہی رکھیں گے۔ ہمیں اپنی بچی کی زندگی زیادہ اہم ہے۔ متعلقہ محکمہ کے افسر اننت بھٹکل نے ہاسٹل پہنچ کر طالبہ، والدین اور عملے سے گفتگو کی ۔ ہاسٹل میں کل 46 طالبات ہیں، یہ سب کون کررہاہے ابھی تک پتہ نہیں چل پایا ہے۔ عملے سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ افسر نے طالبات کی حفاظت اور مستقبل کی خاطر ضروری اقدامات کئے جانے کا یقین دلایا ہے۔